بُرج سنبلہ کی مشہور شخصیات
جنید جمشید
پاکستان کے مشہور ترین لوگوں میں جنید جمشید کا شمار ہوتا ہے۔ 1990 کے یہ قابل ترین پاپ سٹار ہیں جنکے نغمے ہر زبان پر ہوا کرتے تھے۔ انکا نغمہ "دل دل پاکستان" دنیا کے ٹاپ ٹین گانوں میں شامل ہوا لیکن 2001 ء میں انکی زندگی نے پلٹا کھایا اور جنید نے میوزک کی دنیا کو خیر آباد کہہ ڈالا۔ اس وقت جب دنیا انکے قدموں میں تھی، جب پیپسی جیسی بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیز انکے میوزک کی طلبگار تھیں، انھوں نے سب کچھ چھوڑ کر تبلیغی جماعت سے نا طہ جوڑ لیا اور پاپ میوزک چھوڑ کر نعت خوانی کی طرف آگئے۔ سب کیلئے یہ کافی حیران کن بات تھی لیکن انھوں نے ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنا قبول کیا لیکن میوزک کی طرف واپس جانا نہیں۔ معاشی حالات بہتر کرنے کے لیے انہوں نے جنید جمشید نام سے بوتیک قائم کر لی جس کی برانچیں ملک بھر میں ہیں۔ اس کے علاوہ مذہبی ٹی وی پروگراموں میں کمپئیرنگ بھی شروع کر دی۔
جنید بچپن سے اپنے والد کی طرح فائٹر پائلٹ بننا چاہتے تھے لیکن انکی نظر کمزور ہونے کیوجہ سے ان کی یہ خواہش ادھوری رہی۔ انہوں نے انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ جنید کی زندگی پر شعیب منصور نے فلم بھی بنائی "خدا کے لئے"۔ انھیں فلم میں لیڈ رول کی آفر بھی کی گئی لیکن جنید دوبارہ شوبز کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے۔ لوگ انکی داڑھی کے بارے میں سوال کرتے تھے لیکن انکا یہی جواب تھا کہ جس طرح کلین شیو آپکی اپنی چوائس ہے اسی طرح یہ میر ی ذاتی چوائس ہے لہذا کسی کو سوال کرنے کا حق نہیں ہے۔ جنید نے انٹرنیشنل لیول پر چیریٹی کا سلسلہ بھی شروع کیا ہوا تھا۔ ان کا شمار دنیا کے 500 بااثرمسلمانوں میں ہوتا تھا۔
دسمبر 2007ء میں جنید اپنی دوسری بیوی نیہا جنید کے ساتھ چترال میں تبلیغی دورے پر تھے۔ اسلام آباد واپسی پر پی آئی اے کا جہاز گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں سوار تمام مسافروں کا انتقال ہو گیا۔ سوگواران میں ان کی پہلی بیوی عائشہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
تاریخ پیدائش: 3ستمبر1964 (عمر52 سال)۔ مقام: کراچی
آئیے ذرا جنید جمشید کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
برج سنبلہ کے لوگوں کو خدا نے خوب سمجھ عطا کی ہے۔ یہ لوگ انتہائی مشکل حالات میں بھی اپنے حواس نہیں کھوتے البتہ چپ رہ کر سب مسئلے حل کرلیتے ہیں۔ انکے خیالات عام لوگوں سے بہت مختلف اور الگ ہوتے ہیں۔ لیکن انکی سوچ تنقیدی ہوا کرتی ہے۔ یہ ہر بات پر سوال اٹھاتے رہتے ہیں۔ انھیں یہاں تھوڑا خود کو بدلنا چاہیئے۔
جنید جمشید میں یہ تمام باتیں دیکھی جاسکتی ہیں۔

 
 


 
 
 
ہوم پیج دیگر منتخب آرٹیکلز

امیر تیمور کا بُرج
امیر تیمور14 ویں صدی کا منگول فاتح تھا۔ یہ ایک بے رحم اور ظالم ترین شخص تھا، جسکا واحد مقصد اپنی سلطنت کو دوبارہ تعمیر کرنا تھا۔ تیمور نے ایک خاندان تیمورڈ قائم کیا لیکن یہ خاندان 17 ملین لوگوں کی زندگیوں کی قیمت پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس نے دنیا کی وسیع ترین امپائر کو فتح کیا۔ اسکی دہشت پورے ایشیا میں گونجتی تھی۔
مر جانے کے بعد بھی اسکی دہشت ویسی ہی ہے۔ مشہور تھا کہ جو کو ئی اسکا مقبرہ کھو لے گا اس پر قہر نازل ہو گا۔ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ قبر کھلنے کے تین دن بعد سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ لیکن 1942 ء میں اسکی قبر کو کھولا گیا تو پورا عجائب گھر گلاب اور کافور کی خوشبو سے مہکنے لگا۔ لوگوں نے اسے معجزہ سمجھا لیکن وہ صرف تیل کی خوشبو تھی جو اسکی لاش کو لگائے گئے تھے۔ تیمور کو شطرنج کھیلنا بہت پسند تھا اسکا خیال تھا کہ شطرنج سے اسے نئی نئی چالیں سوجھتی ہیں جنہیں جنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
تاریخ پیدائش: 9 اپریل 1336ء۔ مقام: کیش
آئیے ذرا امیر تیمور کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ پیدائش کے مطابق انکا برج حمل ہے۔ برج حمل کے لوگوں کا ذکر کیاجائے تویہ لوگ جرات مند اور پراعتماد ہوتے ہیں۔ یہ لو گ امید کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ لیکن ان لوگوں کی طبیعت ذرا جارحانہ ہوتی ہے۔ اپنے موڈ کے مطابق چلتے ہیں اور عدم اطمینان رکھتے ہیں۔ انھیں خود پر کام کرنا چاہیئے۔
امیر تیمور میں یہ تمام خوبیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

 

آصف زرداری کا بُرج
یہ پاکستانی سیاست کے داؤ پیچ پر عبور رکھنے والے سیاست دان ہیں، جو صدر بھی رہ چکے ہیں۔ کسی زمانے میں سندھی کلچر سے تعلق رکھنے والے ایک گمنام سے نوجوان تھے لیکن بینظیر بھٹو سے شادی کے بعد انکا پس منظر ہی بدل گیا۔ یہ شادی پاکستانی روایات کے مطابق ہوئی اور ایک ارینج میرج تھی۔ یہ رشتہ زرداری کی سوتیلی والدہ ٹمی بخاری اور بیگم نصرت بھٹو نے طے کیا۔ اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاالحق کی حکومت تھی۔ اس شادی کے چند ماہ بعد ہی جنرل ضیاالحق جہاز کے حادثے میں انتقال کر گئے۔ الیکشن کے بعد بینظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں تو زرداری صاحب کو پاکستان کا پہلا مرد ِاول بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔
زرداری کے والد ایک قبائلی سردار تھے اور بھٹو کے ابتدائی سیاسی ساتھیوں میں شامل تھے۔ کراچی کا ایک مشہور سینما بھی ان کی ملکیت تھا۔ بچپن میں آصف زرداری نے ایک فلم میں بطور چائلڈ سٹار کام بھی کیا۔ زرداری نے کراچی کے جس سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، اسی سکول سے پرویز مشرف اورسابق وزیراعظم شوکت عزیز نے بھی ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ زرداری اوائل عمر سے ہی یاروں کے یار کے طور پر مشہور ہیں۔ زرداری کو باکسنگ اور پولو کھیلنے کا بہت شوق ہے۔ اسی باکسنگ کا شوق ان کی بیٹی بختاور کو بھی ہے۔ زرداری کی حفاظت کے لیے روزانہ کالے بکرے کا صدقہ دیا جاتا ہے، جس کا گوشت غریبوں میں بانٹ دیاجاتا ہے۔یہ سلسلہ ایک لمبے عرصے سے جاری ہے۔
زرداری صاحب پر کرپشن کے الزامات بھی لگے اور انہوں نے جیل میں گیارہ سال قید بھی کاٹی ہے، جہاں ان پر تشدد بھی ہوا۔ جس کے باعث وہ دماغی امراض کا شکار بھی ہوئے، لیکن اب ٹھیک ہیں۔ جیل میں بھی آصف زرداری خبروں کی زینت بنے رہے۔ کیونکہ انہوں نے قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی کام کیے، جن میں کھانے اور کپڑوں کی تقسیم اور غریب قیدیوں کی ضمانت کے لیے رقم کا بندوبست بھی شامل ہے۔ بالآخر زرداری کو تمام الزامات میں بری ہونے کے بعد رہا کر دیا گیا۔
بیوی کی وفات کے بعد لوگوں کی ہمدردیاں تو ملیں، لیکن ساتھ ووٹ بھی ملے اور صدر پاکستان بن گئے۔ اس عرصہ میں زرداری نے مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا۔ 2005 ء میں زرداری صاحب پاکستان کے دوسرے امیر ترین شخص تھے۔ بینظیر کی دولت کو انھوں نے غریب عوام تک پہنچانے کیلئے کئی ادارے بھی بنوائے ہیں۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
آئیے ذرا آصف زرداری کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ پیدائش: 26 جولائی 1955 (عمر 62 سال)۔ مقام: کراچی
تاریخ پیدائش کے مطابق انکا برج اسد ہے۔ برج اسد کے لوگوں میں نئی نئی چیزوں کیساتھ تجربہ کرنے کا جذبہ عروج پر ہوا کرتا ہے۔ یہ لوگ جو کام کرتے ہیں اس میں پوری توجہ اور لگن ڈال دیتے ہیں ۔ خوشیاں پھیلانے والے ہمدرد لوگ۔ البتہ مغرور اور خود غرض بھی ہوتے ہیں ۔ اگر ان خامیوں پر توجہ دیں اور انھیں بدلنے کی کوشش کریں تو بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔
آصف زرداری میں یہ تمام خصوصیات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔


اپنے تاثرات بیان کریں !