بُرج سنبلہ کی مشہور شخصیات
نور جہاں
اصل نام اللہ رکھی وسائی ہے۔ ملکہ ترنم کے لقب سے نوازی گئیں کیونکہ انکی آواز نے ہر شخص کے دل کو چھوا۔ گانے کا جو انداز میڈم نور جہاں کے پاس تھا وہ آج کے کسی بھی گلوکار کے پاس نہیں۔ قصور میں پیدا ہونے والی یہ عام سی لڑکی تھی لیکن 9 سال کی عمر میں ہی انھوں نے اپنی آواز کے جوہر دکھانے شروع کر دیے تھے کیونکہ ان کی فیملی میوزک سے وابستہ تھی۔ برصغیر کی ماضی کی ایک مشہور گلوکارہ نے اس نوجوان لڑکی کا ٹیلنٹ دیکھ کر اس کا نام بے بی نورجہاں رکھ دیا۔ انکی سلک کی ساڑیاں، آنکھوں کا گہرا میک اپ، بالوں کا منفردسٹائل نہایت ہر دلعزیز تھے۔ ان سا ہنر اور فیشن اُس زمانے میں کسی اورکے پاس نہیں تھا۔
مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو سے کسی نے نورجہاں کا تعارف یوں کروایا گیا کہ منٹو یہ نور ہے، نورجہاں ہے، سرور جہاں ہے۔ خدا کی قسم ایسی آواز پائی ہے کہ اگر جنت کی خوش الحان سے خوش الحان حور بھی اس کی آواز سن لے تو اِسے سیندور کھلانے زمین پر اتر آئے۔ میڈم صاحبہ نے اردو، پنجابی، سرائیکی اور ہندی میں 10000 سے زائد گانے ریکارڈ کروائے۔ جنوبی ایشیاء کی مشہور ترین شخصیات میں انکا شمار ہوتا ہے۔ انکی آواز نے سرحدوں کے پار جا کر لوگوں کے دل جیتے۔ وطن سے محبت میں اتنی سرشار تھی کہ انھوں نے سپاہیوں کے لیے بھی کئی نغمے گائے۔ پاکستان کی پہلی خاتون فلم ڈائریکٹر ہونے کا شرف بھی انھی کو حاصل ہوا۔ انھوں نے ایکٹنگ، ڈائریکشن اور گلوکاری ساتھ ساتھ جاری رکھی۔ نورجہاں نے دو شادیاں کیں مگر دونوں طلاق پر ختم ہوئیں۔
2000ء میں انکی صحت کافی خراب ہو گئی۔ کافی عرصہ بیڈ پر رہیں اور پھر 27 ویں رمضان المبارک کو ہارٹ اٹیک کی وجہ سے کراچی میں انکی وفات ہوئی۔ صدرِ پاکستان پرویز مشرف نےسرکاری اعزاز کے ساتھ میت لاہور لے جا کر تدفین کا اعلان کیا۔ لیکن نورجہاں کی فیملی کی خواہش کے مطابق 27 رمضان کی ہی رات کو کراچی میں ان کی تدفین کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں چار لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ ان کی بیٹی ظل ہما بھی سنگر تھیں، ان کا انتقال ہوچکا ہے۔ ظل ہما کے بیٹے احمد علی بٹ مشہور سنگر اور ایکٹر ہیں۔ اس کے علاوہ نورجہاں کا پوتا سکندررضوی اور پوتی سونیا جہاں ایکٹر ہیں۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
تاریخ پیدائش: 21ستمبر 1926 (عمر74 سال)۔ مقام: قصور
آئیے ذرا نور جہاں کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
برج سنبلہ کے لوگوں میں وفاداری کا لیول بہت اوپر ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے کام کے ساتھ ساتھ لوگوں کے بھی وفادار ہوتے ہیں۔ رحمدل اور شفیق ہوتے ہیں۔ ہر کسی کی دلجوئی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ محنت کرنا تو انکی عادت ہوتی ہے ہر کام میں جان ڈال دیتے ہیں۔ لیکن ذرا ذرا سی بات پر پریشان ہونا اور مطمئن نہ ہونا انکے لیے مسائل کھڑے کر دیتا ہے۔ انھیں ان باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
نور جہاں میں یہ تمام اوصاف واضح ہیں۔

 
 


 
 
 
ہوم پیج دیگر منتخب آرٹیکلز

مہاتما گاندھی کا بُرج
پورا نام موہن داس کرم چند گاندھی ہے، انڈیا کے بابائے قوم ہیں۔ انڈیا میں باپو کے نام سے بھی مشہور ہیں کیونکہ پورا انڈیا انکو اپنا باپ مانتا ہے۔ بھارت کی آزادی اور وہاں امن قائم کرنے کیلئے گاندھی صاحب نے ہر ممکن کوشش کی۔ گاندھی صاحب 21 دن تک بغیر کھائے پیئے رہ لیتے تھے اور انکے یہ ورت کئی کئی دن تک چلا کرتے تھے۔ ایسا وہ روحانی پاکیزگی حاصل کرنےکے لیے بھی کرتے اور بطور احتجاج بھی کرتے تھے۔ 13 سال کی عمر میں ہی انکی شادی کروا دی گئی تھی اور یہ 4 لڑکوں کے باپ بھی بنے۔ گاندھی نے برٹش حکومت کی ہمیشہ مخالفت کی اور انڈیا کی آزادی کی تحریک چلائی۔ تبھی 1944 میں انھیں انکی بیوی کیساتھ قید میں رکھا گیا اور قید میں ہی انکی بیوی کی وفات بھی ہوگئی۔
تاریخ کے یہ عظیم انسان لندن میں لاء پڑھتے ہوئے اپنی بری لکھائی کیوجہ سے مشہور تھے ۔لیکن کسے پتا تھا کہ ایک دن یہ بھارت کی تاریخ بدل کر رکھ دینگے۔ یہ با ہمت انسان نہایت سادہ زندگی بسر کرتے۔ کھانے میں زیادہ تر پھل کھاتے اور وہ بھی سستے مثلاً کیلے، کجھور، مونگ پھلی، زیتون کا تیل وغیرہ۔ دھوتی اور شلوار کو بطور لباس استعمال کرتے اور ان کا کپڑا بذات خود چرخے پر بُنتے۔ایک دن میں 18 کلومیٹر پیدل چلا کرتے تھے ۔ انکی ہمت اور حوصلہ بے مثال تھا ۔ انکو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایپل کمپنی کے بانی سٹیو جابز نے انکے جیسی گول عینک پہنی۔ سٹیو انکی شخصیت سے بہت متاثر ہیں۔
گاندھی صاحب ساری زندگی امن اور عدم تشدد کے لیے کوشاں رہے، لیکن قدرت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ان کی وفات گولی لگنے سے ہوئی ، جو کہ ایک ہندو انتہا پسند نے ان پر چلائی تھی۔ اس ہندو کا یہ خیال تھا کہ گاندھی پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ گاندھی انڈیا کی انگریزوں سے آزادی تو چاہتے تھے لیکن انڈیا کی تقسیم کے خلاف تھے۔ دوسری طرف محمد علی جناح تھے جن کی کوششوں سے انگریز انڈیا کی تقسیم پر راضی ہو گئے۔
گاندھی جی کا یہ بیان بہت مشہور ہے کہ ۔۔۔ بہت سی وجوہات ہیں، جن کے لیے میں قتل ہونے کو تیار ہوں۔ لیکن ایک بھی وجہ ایسی نہیں ہے کہ جس کی خاطر میں قتل کرنے کے لیے تیار ہوجاؤں۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
آئیے ذرا مہاتما گاندھی کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ پیدائش: 2 اکتوبر 1869 (عمر 78 سال)۔ مقام: گجرات، انڈیا
تاریخ پیدائش کے مطابق انکا برج میزان ہے۔ برج میزان کے لوگوں کی بات کی جائے تو ان میں ہمدردی کا جذبہ عروج پر ہوتا ہے۔ یہ ہر وقت اور ہر کسی کیلئے ہمیشہ دستیاب رہتے ہیں۔ انصاف کے تقاضوں کو یہ لوگ پورا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہ لو گ فیصلہ کرنے میں تھوڑے ڈگمگا جاتے ہیں ۔اگر اس پر قابو پا لیں تو ان سے بہتر کوئی نہیں۔
مہاتما گاندھی میں یہ تمام خصوصیات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

 

ولیم شیکسپیئر کا بُرج
انگریزی زبان کے آج تک کے سب سے بڑے رائٹر ہیں۔ انگلش زبان شیکسپیئر کے بغیر نا مکمل سمجھی جا تی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا ڈرامہ نگار بھی انہیں مانا جاتا ہے۔ انہیں انگلینڈ کے قومی شاعر کا درجہ بھی حاصل ہے۔ لیکن یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ رائٹر ہونے کے علاوہ یہ بزنس مین اور ایکٹر بھی تھے۔ اپنے بہت سے ڈراموں میں انھوں نے خود پر فارم کیا۔ اتنے بڑے ڈرامہ نگار ہونے کے باوجود شیکسپیئر نے نہ خود کوئی بڑی ڈگری لے رکھی تھی، نہ انکے والدین نے اور نہ ہی انکے بچوں نے۔ شیکسپیئر کبھی اپنے نام کے صحیح سپیلنگ یاد نہ کر پائے، سپیلنگ کے معاملے میں ذرا کمزور تھے۔
شیکسپیئر کی شادی 8 سال بڑی عمر کی لڑکی سے ہوئی، اس وقت شیکسپیئر کی عمر صرف 18 سال تھی۔ انکے سٹیج ڈراموں میں کسی خاتون نے پر فارم نہیں کیا کیونکہ ان دنون انگلینڈ میں خواتین کو سٹیج پرفارمنس دینے کی اجازت نہیں ہوا کرتی تھی، تمام کردار مرد ہی ادا کرتے تھے۔ شیکسپیئر ایک بڑی فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ انکے سات بہن بھائی تھے۔ ناں صرف ڈرامے بلکہ بہت سے الفاظ بھی شیکسپیئر کی طرف سے انگریزی زبان کو دیئے گئے، آپ کو یہ پڑھ کر حیرت ہو گی انگریزی زبان کو 1700 سے 3000 الفاظ ان کے دیے ہوئے ہیں۔ رومیو اینڈ جولیٹ ان کی مشہور تخلیق ہے جو کہ ایک ٹریجڈی سٹوری ہے۔
ہالی وڈ کی ابتدائی فلمیں شیکسپیئرہی کے کرداروں سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھیں۔ دنیا بھر میں اب تک شیکسپیئر کے ڈراموں پر مبنی کوئی 420 فلمیں بنائی جا چکی ہیں۔ کسی اور رائٹر کو اتنا نہیں فلمایا گیا، جتنا کہ شیکسپیئر کو۔ شیکسپیئر کی مقبولیت میں مستقبل میں بھی کوئی کمی آتی دکھائی نہیں دیتی۔ کیونکہ ان کے زندگی، موت، نفرت، محبت ، نیکی اور بدی کے موضوعات ہردور میں، ہر ملک میں اور ہر ثقافت میں ہمیشہ موجود رہے ہیں۔ انہوں نے انقلابیوں اوردانشوروں کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ عام عوام کو بھی متاثر کیا۔ یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
تاریخ پیدائش: 26اپریل 1564 (عمر52 سال)۔ مقام: انگلینڈ
آئیے ذرا ولیم شیکسپیئر کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ پیدائش کے مطابق انکا برج ثور ہے۔ برج ثور کے لوگوں کی بات کی جائےتو انھیں قدرت نے آرٹسٹک ذہنیت سے نوازا ہوتا ہے۔ ان پر کبھی بھی بھروسہ کیا جائے یہ اسکی لاج ضرور رکھتے ہیں۔ سب کے ساتھ وفاداری سے چلتے ہیں۔ لیکن انکا نقطہ نظر ذراتنگ ہوتا ہے۔ ہر چیز کو اپنی نظر سے دیکھتے ہیں۔ چاہے وہ زاویہ ٹھیک ہو یا ناں۔ انھیں دوسروں کو بھی تھوڑا سمجھنا چاہیئے۔
ولیم شیکسپیئر میں یہ تمام خوبیا ں موجود ہیں۔


اپنے تاثرات بیان کریں !