Fسے شروع ہونے والے ناموں کا مزاج
Fسے شروع ہونے والے ناموں کا مزاج

جن افراد کا نام F سے شروع ہوتا ہے، ان میں مندرجہ ذیل خصوصیات پائی جاتی ہیں:
  • یہ لوگ دو ستانہ رویے والے ہوتے ہیں۔
  • یہ محنتی اور جفاکش ہوتے ہیں۔ بردباد ہوتے ہیں۔ ذمہ دار اور ولولہ انگیز ہوتے ہیں۔
  • یہ افراد اپنے اطراف تسلسل اور بہاؤ چاہتے ہیں۔ یہ لوگ کوئی بھی کام اپنے طریقے سے انجام دینا چاہتے ہیں۔
  • ایک منفی ایف (F) حدرجہ منطق جھاڑنے والا ہوسکتا ہے۔
  • ان میں مذہب سے گہرے لگاؤ کا جذبہ فطری طور پر موجود ہوتا ہے۔
  • انہیں مذہب اور مذہبی اقدار پر عمل پیرا ہونے کی تربیت اور ترغیب نہ بھی دی جائے تب بھی ان کے دلوں میں دینداری کا جذبہ خود بخود پیدا ہوجاتا ہے اور وہ قدرتی طور پر عام لوگوں سے زیادہ خداپرست ثابت ہوتے ہیں۔
  • وہ اپنی فطری خداپرستی اور خداترسی کے باعث نیکی اور بھلائی کے کام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور ہرلمحہ دوسروں کی ممکنہ حد تک مدد کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ وہ اپنے ملازموں اور ماتحتوں کی بھلائی کا بہت خیال رکھتے ہیں اور انہی خوبیوں کے باعث دوسروں کے حق میں رحمت ثابت ہوتے ہیں۔
  • وہ تجارت اور کاروبار میں خاصے کامیاب رہتے ہیں۔
  • وہ اپنی قوت ارادی اور لگن کے ساتھ جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتے ہیں، کامیابی و کامرانی ان کے قدم چومتی ہے۔
  • ان میں سے بعض افراد کے ساتھ یہ المیہ پیش آتا ہے کہ وہ خود غرضی اور ذاتی مفاد پرستی کے جال میں پھنس جوتے ہیں اور پھر ان کا سارا طرز عمل منفی نوعیت کا ہوجاتا ہے۔
  • منفی طرز عمل کے زیر اثر آجانے پر وہ جب کسی دوسرے کو نیکی یا بھلائی کا کام کرتے دیکھتے ہیں تو اس میں طرح طرح کے عیب نکالنے لگ جاتے ہیں۔
  • منفی طرز عمل کے زیر اثر وہ سخاوت اور خیرات بھی کرتے ہیں تو ایسی جگہ، جہاں سے انہیں شہرت کی امید ہو۔ چنانچہ کسی کام کے لیے چندہ دینے والے سخی داتاؤں کے ناموں کا اعلان ہورہا ہو تو وہاں وہ سوکی جگہ ہزار دے دیں گے مگر کسی فاقہ زدہ مسکین کے ہاتھ پر ایک ٹکا رکھنے کے بھی روادار نہیں ہونگے۔
  • منفی طرز عمل ہی کے زیر اثر وہ حکومت کے بڑے بڑے عہدے حاصل کرنے کے لیے سو سو جتن کرتے ہیں۔

دیگر حروف

 
 

 
 
 
 
ہوم پیج دیگر منتخب آرٹیکلز

امیر تیمور کا بُرج
امیر تیمور14 ویں صدی کا منگول فاتح تھا۔ یہ ایک بے رحم اور ظالم ترین شخص تھا، جسکا واحد مقصد اپنی سلطنت کو دوبارہ تعمیر کرنا تھا۔ تیمور نے ایک خاندان تیمورڈ قائم کیا لیکن یہ خاندان 17 ملین لوگوں کی زندگیوں کی قیمت پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس نے دنیا کی وسیع ترین امپائر کو فتح کیا۔ اسکی دہشت پورے ایشیا میں گونجتی تھی۔
مر جانے کے بعد بھی اسکی دہشت ویسی ہی ہے۔ مشہور تھا کہ جو کو ئی اسکا مقبرہ کھو لے گا اس پر قہر نازل ہو گا۔ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ قبر کھلنے کے تین دن بعد سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ لیکن 1942 ء میں اسکی قبر کو کھولا گیا تو پورا عجائب گھر گلاب اور کافور کی خوشبو سے مہکنے لگا۔ لوگوں نے اسے معجزہ سمجھا لیکن وہ صرف تیل کی خوشبو تھی جو اسکی لاش کو لگائے گئے تھے۔ تیمور کو شطرنج کھیلنا بہت پسند تھا اسکا خیال تھا کہ شطرنج سے اسے نئی نئی چالیں سوجھتی ہیں جنہیں جنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
تاریخ پیدائش: 9 اپریل 1336ء۔ مقام: کیش
آئیے ذرا امیر تیمور کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ پیدائش کے مطابق انکا برج حمل ہے۔ برج حمل کے لوگوں کا ذکر کیاجائے تویہ لوگ جرات مند اور پراعتماد ہوتے ہیں۔ یہ لو گ امید کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ لیکن ان لوگوں کی طبیعت ذرا جارحانہ ہوتی ہے۔ اپنے موڈ کے مطابق چلتے ہیں اور عدم اطمینان رکھتے ہیں۔ انھیں خود پر کام کرنا چاہیئے۔
امیر تیمور میں یہ تمام خوبیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

 

آصف زرداری کا بُرج
یہ پاکستانی سیاست کے داؤ پیچ پر عبور رکھنے والے سیاست دان ہیں، جو صدر بھی رہ چکے ہیں۔ کسی زمانے میں سندھی کلچر سے تعلق رکھنے والے ایک گمنام سے نوجوان تھے لیکن بینظیر بھٹو سے شادی کے بعد انکا پس منظر ہی بدل گیا۔ یہ شادی پاکستانی روایات کے مطابق ہوئی اور ایک ارینج میرج تھی۔ یہ رشتہ زرداری کی سوتیلی والدہ ٹمی بخاری اور بیگم نصرت بھٹو نے طے کیا۔ اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاالحق کی حکومت تھی۔ اس شادی کے چند ماہ بعد ہی جنرل ضیاالحق جہاز کے حادثے میں انتقال کر گئے۔ الیکشن کے بعد بینظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں تو زرداری صاحب کو پاکستان کا پہلا مرد ِاول بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔
زرداری کے والد ایک قبائلی سردار تھے اور بھٹو کے ابتدائی سیاسی ساتھیوں میں شامل تھے۔ کراچی کا ایک مشہور سینما بھی ان کی ملکیت تھا۔ بچپن میں آصف زرداری نے ایک فلم میں بطور چائلڈ سٹار کام بھی کیا۔ زرداری نے کراچی کے جس سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، اسی سکول سے پرویز مشرف اورسابق وزیراعظم شوکت عزیز نے بھی ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ زرداری اوائل عمر سے ہی یاروں کے یار کے طور پر مشہور ہیں۔ زرداری کو باکسنگ اور پولو کھیلنے کا بہت شوق ہے۔ اسی باکسنگ کا شوق ان کی بیٹی بختاور کو بھی ہے۔ زرداری کی حفاظت کے لیے روزانہ کالے بکرے کا صدقہ دیا جاتا ہے، جس کا گوشت غریبوں میں بانٹ دیاجاتا ہے۔یہ سلسلہ ایک لمبے عرصے سے جاری ہے۔
زرداری صاحب پر کرپشن کے الزامات بھی لگے اور انہوں نے جیل میں گیارہ سال قید بھی کاٹی ہے، جہاں ان پر تشدد بھی ہوا۔ جس کے باعث وہ دماغی امراض کا شکار بھی ہوئے، لیکن اب ٹھیک ہیں۔ جیل میں بھی آصف زرداری خبروں کی زینت بنے رہے۔ کیونکہ انہوں نے قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی کام کیے، جن میں کھانے اور کپڑوں کی تقسیم اور غریب قیدیوں کی ضمانت کے لیے رقم کا بندوبست بھی شامل ہے۔ بالآخر زرداری کو تمام الزامات میں بری ہونے کے بعد رہا کر دیا گیا۔
بیوی کی وفات کے بعد لوگوں کی ہمدردیاں تو ملیں، لیکن ساتھ ووٹ بھی ملے اور صدر پاکستان بن گئے۔ اس عرصہ میں زرداری نے مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا۔ 2005 ء میں زرداری صاحب پاکستان کے دوسرے امیر ترین شخص تھے۔ بینظیر کی دولت کو انھوں نے غریب عوام تک پہنچانے کیلئے کئی ادارے بھی بنوائے ہیں۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
آئیے ذرا آصف زرداری کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ پیدائش: 26 جولائی 1955 (عمر 62 سال)۔ مقام: کراچی
تاریخ پیدائش کے مطابق انکا برج اسد ہے۔ برج اسد کے لوگوں میں نئی نئی چیزوں کیساتھ تجربہ کرنے کا جذبہ عروج پر ہوا کرتا ہے۔ یہ لوگ جو کام کرتے ہیں اس میں پوری توجہ اور لگن ڈال دیتے ہیں ۔ خوشیاں پھیلانے والے ہمدرد لوگ۔ البتہ مغرور اور خود غرض بھی ہوتے ہیں ۔ اگر ان خامیوں پر توجہ دیں اور انھیں بدلنے کی کوشش کریں تو بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔
آصف زرداری میں یہ تمام خصوصیات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

 


اپنے تاثرات بیان کریں !