Kسے شروع ہونے والے ناموں کا مزاج
Kسے شروع ہونے والے ناموں کا مزاج

جن افراد کا نام K سے شروع ہوتا ہے، ان میں مندرجہ ذیل خصوصیات پائی جاتی ہیں:
  • یہ لوگ چیزوں کو مثالی اور آئیڈیل شکل میں دیکھتے ہیں۔
  • یہ جوش و ولولے سے بھرپور اور زندگی میں جان ڈالنے والے ہوتے ہیں۔
  • ایک منفی کے (K) کی سوچ اس کے اعصاب میں تناؤ پیدا کرسکتی ہے۔وہ بے چین، نروس اور خاصا سرکش ہوسکتا ہے۔
  • ان میں مسائل کو سمجھنے اور مسائل کی جزئیات اور تہہ تک پہنچنے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس غیر معمولی صلاحیت کی وجہ سے دوسرے لوگ انہیں بدل جانے والے، دو رُخی پالیسی اختیاری کرنے والے یا ناقابل فہم سمجھتے ہیں۔
  • وہ بڑے ذہین ہوتے ہیں اور جس معاملے میں باریک بینی کی ضرورت ہو، وہاں وہ سب پر بازی لے جاتے ہیں۔
  • وہ موقع شناس اور جوڑ توڑ میں بڑے ماہر ہوتے ہیں اور اپنے مزاج، اپنے انداز گفتگو اور زور تقریر سے دوسروں کوبہت جلد متاثر کرلیتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کی اپنی فطرت کے بدلتے رنگ کے باعث یہ اثر زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔
  • انکا موڈ ہمیشہ یکساں نہیں رہتا۔ ’گھڑی میں تولہ، پل میں ماشہ‘ کے مصداق وہ کبھی مہربان اور کبھی ناراض دکھائی دیتے ہیں۔
  • وہ ہر فن مولا ہوتے ہیں اور ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہنے کی کوشش کرتے ہیں، خواہ اس مصروفیت کا انہیں کوئی خاص فائدہ ہو یا نہ ہو ۔
  • ان کے دلوں میں سماجی مرتبہ اور عزت حاصل کرنے کی خواہش دوسروں سے کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔
  • انہیں اکثر و بیشتر واضح طور پر علم نہیں ہوتا کہ وہ کس شے کے خواہاں ہیں۔ چنانچہ جب وہ چیز انہیں حاصل ہوجاتی ہے تو وہ اپنی فطرت کے مطابق اس کی طرف سے غفلت اور بے نیازی برتتے ہوئے کسی دوسری بالکل ہی مختلف چیز کے حاصل کرنے کی دھن میں لگ جاتے ہیں۔
  • ان کی بے چین طبیعت پر ہمیشہ نئی سے نئی چیز کے حصول کی دھن سوار رہتی ہے۔
  • ان کا نت نئے تجربات کرنے کا رجحان انہیں نئی سے نئی مہمات پر گامزن رکھتا ہے۔
  • ان کے مزاج میں ٹھہراؤ نہیں ہوتا اور نہ ہی انہیں کسی ایک جگہ کا پابند کیا جاسکتا ہے۔
  • وہ مطالعہ، تحریر و تقریر، سوچ بچار اور تفکر و تدبر کی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔

دیگر حروف

 
 

 
 
 
 
ہوم پیج دیگر منتخب آرٹیکلز

امیر تیمور کا بُرج
امیر تیمور14 ویں صدی کا منگول فاتح تھا۔ یہ ایک بے رحم اور ظالم ترین شخص تھا، جسکا واحد مقصد اپنی سلطنت کو دوبارہ تعمیر کرنا تھا۔ تیمور نے ایک خاندان تیمورڈ قائم کیا لیکن یہ خاندان 17 ملین لوگوں کی زندگیوں کی قیمت پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس نے دنیا کی وسیع ترین امپائر کو فتح کیا۔ اسکی دہشت پورے ایشیا میں گونجتی تھی۔
مر جانے کے بعد بھی اسکی دہشت ویسی ہی ہے۔ مشہور تھا کہ جو کو ئی اسکا مقبرہ کھو لے گا اس پر قہر نازل ہو گا۔ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ قبر کھلنے کے تین دن بعد سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ لیکن 1942 ء میں اسکی قبر کو کھولا گیا تو پورا عجائب گھر گلاب اور کافور کی خوشبو سے مہکنے لگا۔ لوگوں نے اسے معجزہ سمجھا لیکن وہ صرف تیل کی خوشبو تھی جو اسکی لاش کو لگائے گئے تھے۔ تیمور کو شطرنج کھیلنا بہت پسند تھا اسکا خیال تھا کہ شطرنج سے اسے نئی نئی چالیں سوجھتی ہیں جنہیں جنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
تاریخ پیدائش: 9 اپریل 1336ء۔ مقام: کیش
آئیے ذرا امیر تیمور کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ پیدائش کے مطابق انکا برج حمل ہے۔ برج حمل کے لوگوں کا ذکر کیاجائے تویہ لوگ جرات مند اور پراعتماد ہوتے ہیں۔ یہ لو گ امید کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ لیکن ان لوگوں کی طبیعت ذرا جارحانہ ہوتی ہے۔ اپنے موڈ کے مطابق چلتے ہیں اور عدم اطمینان رکھتے ہیں۔ انھیں خود پر کام کرنا چاہیئے۔
امیر تیمور میں یہ تمام خوبیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

 

آصف زرداری کا بُرج
یہ پاکستانی سیاست کے داؤ پیچ پر عبور رکھنے والے سیاست دان ہیں، جو صدر بھی رہ چکے ہیں۔ کسی زمانے میں سندھی کلچر سے تعلق رکھنے والے ایک گمنام سے نوجوان تھے لیکن بینظیر بھٹو سے شادی کے بعد انکا پس منظر ہی بدل گیا۔ یہ شادی پاکستانی روایات کے مطابق ہوئی اور ایک ارینج میرج تھی۔ یہ رشتہ زرداری کی سوتیلی والدہ ٹمی بخاری اور بیگم نصرت بھٹو نے طے کیا۔ اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاالحق کی حکومت تھی۔ اس شادی کے چند ماہ بعد ہی جنرل ضیاالحق جہاز کے حادثے میں انتقال کر گئے۔ الیکشن کے بعد بینظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں تو زرداری صاحب کو پاکستان کا پہلا مرد ِاول بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔
زرداری کے والد ایک قبائلی سردار تھے اور بھٹو کے ابتدائی سیاسی ساتھیوں میں شامل تھے۔ کراچی کا ایک مشہور سینما بھی ان کی ملکیت تھا۔ بچپن میں آصف زرداری نے ایک فلم میں بطور چائلڈ سٹار کام بھی کیا۔ زرداری نے کراچی کے جس سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، اسی سکول سے پرویز مشرف اورسابق وزیراعظم شوکت عزیز نے بھی ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ زرداری اوائل عمر سے ہی یاروں کے یار کے طور پر مشہور ہیں۔ زرداری کو باکسنگ اور پولو کھیلنے کا بہت شوق ہے۔ اسی باکسنگ کا شوق ان کی بیٹی بختاور کو بھی ہے۔ زرداری کی حفاظت کے لیے روزانہ کالے بکرے کا صدقہ دیا جاتا ہے، جس کا گوشت غریبوں میں بانٹ دیاجاتا ہے۔یہ سلسلہ ایک لمبے عرصے سے جاری ہے۔
زرداری صاحب پر کرپشن کے الزامات بھی لگے اور انہوں نے جیل میں گیارہ سال قید بھی کاٹی ہے، جہاں ان پر تشدد بھی ہوا۔ جس کے باعث وہ دماغی امراض کا شکار بھی ہوئے، لیکن اب ٹھیک ہیں۔ جیل میں بھی آصف زرداری خبروں کی زینت بنے رہے۔ کیونکہ انہوں نے قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی کام کیے، جن میں کھانے اور کپڑوں کی تقسیم اور غریب قیدیوں کی ضمانت کے لیے رقم کا بندوبست بھی شامل ہے۔ بالآخر زرداری کو تمام الزامات میں بری ہونے کے بعد رہا کر دیا گیا۔
بیوی کی وفات کے بعد لوگوں کی ہمدردیاں تو ملیں، لیکن ساتھ ووٹ بھی ملے اور صدر پاکستان بن گئے۔ اس عرصہ میں زرداری نے مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا۔ 2005 ء میں زرداری صاحب پاکستان کے دوسرے امیر ترین شخص تھے۔ بینظیر کی دولت کو انھوں نے غریب عوام تک پہنچانے کیلئے کئی ادارے بھی بنوائے ہیں۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
آئیے ذرا آصف زرداری کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ پیدائش: 26 جولائی 1955 (عمر 62 سال)۔ مقام: کراچی
تاریخ پیدائش کے مطابق انکا برج اسد ہے۔ برج اسد کے لوگوں میں نئی نئی چیزوں کیساتھ تجربہ کرنے کا جذبہ عروج پر ہوا کرتا ہے۔ یہ لوگ جو کام کرتے ہیں اس میں پوری توجہ اور لگن ڈال دیتے ہیں ۔ خوشیاں پھیلانے والے ہمدرد لوگ۔ البتہ مغرور اور خود غرض بھی ہوتے ہیں ۔ اگر ان خامیوں پر توجہ دیں اور انھیں بدلنے کی کوشش کریں تو بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔
آصف زرداری میں یہ تمام خصوصیات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

 


اپنے تاثرات بیان کریں !