Sسے شروع ہونے والے ناموں کا مزاج
Sسے شروع ہونے والے ناموں کا مزاج

جن افراد کا نام S سے شروع ہوتا ہے، ان میں مندرجہ ذیل خصوصیات پائی جاتی ہیں:
  • ایسے لوگ جذباتی ہوتے ہیں۔
  • وہ تخلیق کی جانب مائل ہوتے ہیں۔
  • وہ صاحب وجدان اور دور اندیش ہوتے ہیں۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق لیتے ہیں۔
  • ایک منفی ایس (S) کے مزاج میں اضطراب ممکن ہے۔
  • وہ بے حد معتبر، انتہائی قابل، ترقی پسند، تخلیقی ذہن اور درخشاں نظریات کے مالک ہوتے ہیں۔
  • ان کا دماغ بڑی تیزی سے کام کرتا ہے۔
  • وہ جذبات سے زیادہ عقل سےاور دل سے زیادہ دماغ سے کام لیتے ہیں، یہاں تک کہ محبت کے معاملات میں بھی اپنے جذبات کو دماغ کی چھلنی سے گزار کر اور نفع نقصان کے ترازو میں تول کر پھر کوئی قدم اٹھاتے ہیں۔
  • وہ کسی کام کو نا ممکن نہیں سمجھتے اور اس سوچ کے پیچھے انکے مضبوط نظریات اور تیز ذہانت کی کارفرمائی ہوتی ہے۔
  • وہ امن اور محبت کے پیر و کار اور صلح و آشتی کے علمبردار ہوتے ہیں۔
  • ان کے لیے اگر چہ اپنے نظریات کے مطابق زندگی گزارنا آسان نہیں ہوتا، اس کے باوجود اپنے اصولوں اور نظریات پر ہر گز سمجھوتہ نہیں کرتے بلکہ حالات کو اپنے لیے سازگار بنانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
  • وہ اگر کسی سمت چل پڑیں تو اپنا راستہ یا طریقہ کار بڑی مشکل سے تبدیل کرتے ہیں۔
  • وہ اپنے نظریات کو اپنی انا کا مسئلہ بنالیتے ہیں۔ ایک تو وہ اپنے دل کی بات دوسروں سے چھپائے رکھتے ہیں، دوسرے کسی کی بات نہیں سنتے اور نہ ہی مناسب جواب سے ان کی تسلی ہوتی ہے بلکہ وہ ہر بات میں اپنی کرنے اور اپنی منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔
  • وہ دوسروں کے معاملات میں دخل دے کر اگرچہ اپنی کامیابی کے امکانات پیدا کر لیتے ہیں، مگر اکثر یہ ان کی زندگی کا سخت ترین سبق ہوتا ہے۔
  • ان کی فطرت کا سب سے بڑا جوہر ثابت قدمی ہے۔ اس ثابت قدمی کے ساتھ جب وہ معاملات ہاتھ میں لیتے ہیں تو کامیابیاں ان کے قدم چومتی ہیں۔
  • وہ کاروبار میں منفی رحجانات کے زیر اثر آجائیں تو کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ایک سے ایک غلط کام کر گزرتے ہیں اور اس سلسلے میں دوسروں کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
  • وہ جذباتی طور پر غیر جانبدار ہوتے ہیں اور دوسروں کے جذبات کا احساس کرنے کی بجائے ان کی بھلائی کاخیال ان کے دماغ پر چھایا رہتا ہے۔

دیگر حروف

 
 

 
 
 
 
ہوم پیج دیگر منتخب آرٹیکلز

امیر تیمور کا بُرج
امیر تیمور14 ویں صدی کا منگول فاتح تھا۔ یہ ایک بے رحم اور ظالم ترین شخص تھا، جسکا واحد مقصد اپنی سلطنت کو دوبارہ تعمیر کرنا تھا۔ تیمور نے ایک خاندان تیمورڈ قائم کیا لیکن یہ خاندان 17 ملین لوگوں کی زندگیوں کی قیمت پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس نے دنیا کی وسیع ترین امپائر کو فتح کیا۔ اسکی دہشت پورے ایشیا میں گونجتی تھی۔
مر جانے کے بعد بھی اسکی دہشت ویسی ہی ہے۔ مشہور تھا کہ جو کو ئی اسکا مقبرہ کھو لے گا اس پر قہر نازل ہو گا۔ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ قبر کھلنے کے تین دن بعد سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ لیکن 1942 ء میں اسکی قبر کو کھولا گیا تو پورا عجائب گھر گلاب اور کافور کی خوشبو سے مہکنے لگا۔ لوگوں نے اسے معجزہ سمجھا لیکن وہ صرف تیل کی خوشبو تھی جو اسکی لاش کو لگائے گئے تھے۔ تیمور کو شطرنج کھیلنا بہت پسند تھا اسکا خیال تھا کہ شطرنج سے اسے نئی نئی چالیں سوجھتی ہیں جنہیں جنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
تاریخ پیدائش: 9 اپریل 1336ء۔ مقام: کیش
آئیے ذرا امیر تیمور کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ پیدائش کے مطابق انکا برج حمل ہے۔ برج حمل کے لوگوں کا ذکر کیاجائے تویہ لوگ جرات مند اور پراعتماد ہوتے ہیں۔ یہ لو گ امید کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ لیکن ان لوگوں کی طبیعت ذرا جارحانہ ہوتی ہے۔ اپنے موڈ کے مطابق چلتے ہیں اور عدم اطمینان رکھتے ہیں۔ انھیں خود پر کام کرنا چاہیئے۔
امیر تیمور میں یہ تمام خوبیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

 

آصف زرداری کا بُرج
یہ پاکستانی سیاست کے داؤ پیچ پر عبور رکھنے والے سیاست دان ہیں، جو صدر بھی رہ چکے ہیں۔ کسی زمانے میں سندھی کلچر سے تعلق رکھنے والے ایک گمنام سے نوجوان تھے لیکن بینظیر بھٹو سے شادی کے بعد انکا پس منظر ہی بدل گیا۔ یہ شادی پاکستانی روایات کے مطابق ہوئی اور ایک ارینج میرج تھی۔ یہ رشتہ زرداری کی سوتیلی والدہ ٹمی بخاری اور بیگم نصرت بھٹو نے طے کیا۔ اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاالحق کی حکومت تھی۔ اس شادی کے چند ماہ بعد ہی جنرل ضیاالحق جہاز کے حادثے میں انتقال کر گئے۔ الیکشن کے بعد بینظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں تو زرداری صاحب کو پاکستان کا پہلا مرد ِاول بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔
زرداری کے والد ایک قبائلی سردار تھے اور بھٹو کے ابتدائی سیاسی ساتھیوں میں شامل تھے۔ کراچی کا ایک مشہور سینما بھی ان کی ملکیت تھا۔ بچپن میں آصف زرداری نے ایک فلم میں بطور چائلڈ سٹار کام بھی کیا۔ زرداری نے کراچی کے جس سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، اسی سکول سے پرویز مشرف اورسابق وزیراعظم شوکت عزیز نے بھی ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ زرداری اوائل عمر سے ہی یاروں کے یار کے طور پر مشہور ہیں۔ زرداری کو باکسنگ اور پولو کھیلنے کا بہت شوق ہے۔ اسی باکسنگ کا شوق ان کی بیٹی بختاور کو بھی ہے۔ زرداری کی حفاظت کے لیے روزانہ کالے بکرے کا صدقہ دیا جاتا ہے، جس کا گوشت غریبوں میں بانٹ دیاجاتا ہے۔یہ سلسلہ ایک لمبے عرصے سے جاری ہے۔
زرداری صاحب پر کرپشن کے الزامات بھی لگے اور انہوں نے جیل میں گیارہ سال قید بھی کاٹی ہے، جہاں ان پر تشدد بھی ہوا۔ جس کے باعث وہ دماغی امراض کا شکار بھی ہوئے، لیکن اب ٹھیک ہیں۔ جیل میں بھی آصف زرداری خبروں کی زینت بنے رہے۔ کیونکہ انہوں نے قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی کام کیے، جن میں کھانے اور کپڑوں کی تقسیم اور غریب قیدیوں کی ضمانت کے لیے رقم کا بندوبست بھی شامل ہے۔ بالآخر زرداری کو تمام الزامات میں بری ہونے کے بعد رہا کر دیا گیا۔
بیوی کی وفات کے بعد لوگوں کی ہمدردیاں تو ملیں، لیکن ساتھ ووٹ بھی ملے اور صدر پاکستان بن گئے۔ اس عرصہ میں زرداری نے مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا۔ 2005 ء میں زرداری صاحب پاکستان کے دوسرے امیر ترین شخص تھے۔ بینظیر کی دولت کو انھوں نے غریب عوام تک پہنچانے کیلئے کئی ادارے بھی بنوائے ہیں۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
آئیے ذرا آصف زرداری کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ پیدائش: 26 جولائی 1955 (عمر 62 سال)۔ مقام: کراچی
تاریخ پیدائش کے مطابق انکا برج اسد ہے۔ برج اسد کے لوگوں میں نئی نئی چیزوں کیساتھ تجربہ کرنے کا جذبہ عروج پر ہوا کرتا ہے۔ یہ لوگ جو کام کرتے ہیں اس میں پوری توجہ اور لگن ڈال دیتے ہیں ۔ خوشیاں پھیلانے والے ہمدرد لوگ۔ البتہ مغرور اور خود غرض بھی ہوتے ہیں ۔ اگر ان خامیوں پر توجہ دیں اور انھیں بدلنے کی کوشش کریں تو بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔
آصف زرداری میں یہ تمام خصوصیات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

 


اپنے تاثرات بیان کریں !