بُرج میزان کی مشہور شخصیات
ولادمیرپیوٹن
ولاد میر پیوٹن روس کے موجودہ صدر ہیں۔ عوام کی پسندیدہ شخصیت ہیں۔ 20 سال سے اقتدار میں ہیں، کبھی وزیراعظم بن جاتے ہیں تو کبھی صدر۔ روس کودوبارہ ایک بڑی طاقت بنانے میں بلاشبہ انکا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ حالیہ امریکی الیکشن میں ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے ہیلری کلنٹن کو ہرا کر ٹرمپ کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تا کہ امریکہ روسی مفادات کا تحفظ کر سکے۔ تاہم پیوٹن اور ٹرمپ نے ان الزامات کا انکار کیا ہے۔ سیاست میں آنے سے پہلے روسی خفیہ ایجنسی KGBمیں سولہ سال تک خدمات سرانجام دیں۔
پیوٹن کا تعلق ایک غریب فیملی سے تھا جو کہ بہت چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے۔ والدہ ایک فیکٹری میں کام کرتی تھیں جبکہ والد نیوی میں تھے۔ اور پیوٹن صاحب وہاں اپنے فارغ وقت میں چوہے مارتے تھے۔۔۔ جی چوہے۔ انکے پاس کئی پالتو کتے بھی ہیں جن سے یہ روس میں آنے والے غیر ملکی مہمانوں کو ڈراتے ہیں، خصوصاً جرمنی کی خاتون حکمران اینجلہ مارکل ان کتوں سے بہت ڈرتی ہیں۔ بڑے لوگ اور نرالے شوق۔ انھیں ٹیکنالوجی کا بھی کافی اچھا استعمال کرنا آتا ہے، دوسروں کی مدد لینے کی بجائے خود ہر چیزسرچ کر لیتے ہیں۔
پیوٹن کو ایک بار شدید کارحادثہ پیش آیا، اسی طرح ایک مرتبہ وہ چاروں طرف سے شدید آگ میں گھر گئے۔ ان دونوں واقعات میں زندہ بچ جانے کے بعد ان کا خدا پر ایمان مضبوط ہو گیا اور انہوں نے چرچ سے اپنا تعلق قائم کر لیا۔
بہت کم لیڈرز پیوٹن جیسے خوش شکل ہیں۔ انکی فٹ جسامت پر کئی خواتین فلیٹ ہیں۔ پیوٹن صرف سیاست میں ہی نہیں اپنی ذاتی زندگی میں بھی جوش، ہمت و بہادری کے پیکر ہیں۔ 18 سال کی عمر میں مارشل آرٹس میں بلیک بیلٹ حاصل کی اور آج 65 سال کی عمرمیں بھی نوجوانوں کی طرح سُپر فِٹ ہیں۔ ان کا شمار دنیا کے بہترین جوڈو کے کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ جنگی جہاز بھی اڑا لیتے ہیں۔ ہاکی میں اتنے اچھے ہیں کہ انکے خلاف گول کرنا ناممکن ہے۔ پیوٹن کافی ایکٹو ہیں، کبھی وہیل مچھلی کا شکار کرنے نکل پڑتے ہیں تو کبھی ٹھنڈے یخ پانی میں سوئمنگ کرنے اور کبھی بائیک رائیڈنگ کرنے۔ ان کی اس مہم جو زندگی پر گانے بھی لکھے گئے ہیں، جو کہ روس میں بہت ہٹ ہوئے ہیں۔ انکی زندگی باقی لیڈرز کی طرح کیبن میں بیٹھے رہنے کی بجائے بہتے ہوئے پانی کی طرح ہے۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
تاریخ پیدائش: 7اکتوبر 1952 (عمر55 سال)۔ مقام: سویت یونین، موجودہ روس
آئیے ذرا ولاد میرپیوٹن کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
برج میزان کے لوگ رحمدل، شریف اور فطرت کے عاشق ہوتے ہیں۔ یہ لوگ امن قائم کر نے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ہر کسی کو خوش دیکھنے کی خواہش کیوجہ سے اکثر یہ چاہتے ہوئے بھی "ناں" نہیں کہہ پاتے اورپھر خود تکلیف اٹھاتے ہیں۔ اگر یہ تھوڑا ڈپلومیٹک رہنا سیکھ لیں تو انکی بہت سی پریشانیاں کم ہوسکتی ہیں۔
ولاد میرپیوٹن میں یہ تمام خوبیاں موجود ہیں۔

 
 
مشہورمیزان شخصیات کے متعلق دلچسپ حقائق
روزویلٹ (امریکی صدر)
مارگریٹ تھیچر (برطانوی وزیراعظم)
انڈین صدر اور سائنسدان عبدالکلام
جلال الدین رومی
آسکر وائلڈ
سر سید احمد خان
مولانا مودودی
سائنسدان الفریڈ نوبل
سائنسدان نیل بوہر
 
مشہورمیزان شخصیات کے متعلق دلچسپ حقائق
مارگریٹ تھیچر (برطانوی وزیراعظم)
انڈین صدر اور سائنسدان عبدالکلام
روزویلٹ (امریکی صدر)
آسکر وائلڈ
جلال الدین رومی
سر سید احمد خان
مولانا مودودی
سائنسدان نیل بوہر
سائنسدان الفریڈ نوبل


 
 
 
ہوم پیج دیگر منتخب آرٹیکلز

امیر تیمور کا بُرج
امیر تیمور14 ویں صدی کا منگول فاتح تھا۔ یہ ایک بے رحم اور ظالم ترین شخص تھا، جسکا واحد مقصد اپنی سلطنت کو دوبارہ تعمیر کرنا تھا۔ تیمور نے ایک خاندان تیمورڈ قائم کیا لیکن یہ خاندان 17 ملین لوگوں کی زندگیوں کی قیمت پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس نے دنیا کی وسیع ترین امپائر کو فتح کیا۔ اسکی دہشت پورے ایشیا میں گونجتی تھی۔
مر جانے کے بعد بھی اسکی دہشت ویسی ہی ہے۔ مشہور تھا کہ جو کو ئی اسکا مقبرہ کھو لے گا اس پر قہر نازل ہو گا۔ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ قبر کھلنے کے تین دن بعد سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ لیکن 1942 ء میں اسکی قبر کو کھولا گیا تو پورا عجائب گھر گلاب اور کافور کی خوشبو سے مہکنے لگا۔ لوگوں نے اسے معجزہ سمجھا لیکن وہ صرف تیل کی خوشبو تھی جو اسکی لاش کو لگائے گئے تھے۔ تیمور کو شطرنج کھیلنا بہت پسند تھا اسکا خیال تھا کہ شطرنج سے اسے نئی نئی چالیں سوجھتی ہیں جنہیں جنگ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
تاریخ پیدائش: 9 اپریل 1336ء۔ مقام: کیش
آئیے ذرا امیر تیمور کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ پیدائش کے مطابق انکا برج حمل ہے۔ برج حمل کے لوگوں کا ذکر کیاجائے تویہ لوگ جرات مند اور پراعتماد ہوتے ہیں۔ یہ لو گ امید کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ لیکن ان لوگوں کی طبیعت ذرا جارحانہ ہوتی ہے۔ اپنے موڈ کے مطابق چلتے ہیں اور عدم اطمینان رکھتے ہیں۔ انھیں خود پر کام کرنا چاہیئے۔
امیر تیمور میں یہ تمام خوبیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

 

آصف زرداری کا بُرج
یہ پاکستانی سیاست کے داؤ پیچ پر عبور رکھنے والے سیاست دان ہیں، جو صدر بھی رہ چکے ہیں۔ کسی زمانے میں سندھی کلچر سے تعلق رکھنے والے ایک گمنام سے نوجوان تھے لیکن بینظیر بھٹو سے شادی کے بعد انکا پس منظر ہی بدل گیا۔ یہ شادی پاکستانی روایات کے مطابق ہوئی اور ایک ارینج میرج تھی۔ یہ رشتہ زرداری کی سوتیلی والدہ ٹمی بخاری اور بیگم نصرت بھٹو نے طے کیا۔ اس وقت پاکستان میں جنرل ضیاالحق کی حکومت تھی۔ اس شادی کے چند ماہ بعد ہی جنرل ضیاالحق جہاز کے حادثے میں انتقال کر گئے۔ الیکشن کے بعد بینظیر بھٹو وزیراعظم بن گئیں تو زرداری صاحب کو پاکستان کا پہلا مرد ِاول بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔
زرداری کے والد ایک قبائلی سردار تھے اور بھٹو کے ابتدائی سیاسی ساتھیوں میں شامل تھے۔ کراچی کا ایک مشہور سینما بھی ان کی ملکیت تھا۔ بچپن میں آصف زرداری نے ایک فلم میں بطور چائلڈ سٹار کام بھی کیا۔ زرداری نے کراچی کے جس سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، اسی سکول سے پرویز مشرف اورسابق وزیراعظم شوکت عزیز نے بھی ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی۔ زرداری اوائل عمر سے ہی یاروں کے یار کے طور پر مشہور ہیں۔ زرداری کو باکسنگ اور پولو کھیلنے کا بہت شوق ہے۔ اسی باکسنگ کا شوق ان کی بیٹی بختاور کو بھی ہے۔ زرداری کی حفاظت کے لیے روزانہ کالے بکرے کا صدقہ دیا جاتا ہے، جس کا گوشت غریبوں میں بانٹ دیاجاتا ہے۔یہ سلسلہ ایک لمبے عرصے سے جاری ہے۔
زرداری صاحب پر کرپشن کے الزامات بھی لگے اور انہوں نے جیل میں گیارہ سال قید بھی کاٹی ہے، جہاں ان پر تشدد بھی ہوا۔ جس کے باعث وہ دماغی امراض کا شکار بھی ہوئے، لیکن اب ٹھیک ہیں۔ جیل میں بھی آصف زرداری خبروں کی زینت بنے رہے۔ کیونکہ انہوں نے قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی کام کیے، جن میں کھانے اور کپڑوں کی تقسیم اور غریب قیدیوں کی ضمانت کے لیے رقم کا بندوبست بھی شامل ہے۔ بالآخر زرداری کو تمام الزامات میں بری ہونے کے بعد رہا کر دیا گیا۔
بیوی کی وفات کے بعد لوگوں کی ہمدردیاں تو ملیں، لیکن ساتھ ووٹ بھی ملے اور صدر پاکستان بن گئے۔ اس عرصہ میں زرداری نے مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا۔ 2005 ء میں زرداری صاحب پاکستان کے دوسرے امیر ترین شخص تھے۔ بینظیر کی دولت کو انھوں نے غریب عوام تک پہنچانے کیلئے کئی ادارے بھی بنوائے ہیں۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
آئیے ذرا آصف زرداری کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ پیدائش: 26 جولائی 1955 (عمر 62 سال)۔ مقام: کراچی
تاریخ پیدائش کے مطابق انکا برج اسد ہے۔ برج اسد کے لوگوں میں نئی نئی چیزوں کیساتھ تجربہ کرنے کا جذبہ عروج پر ہوا کرتا ہے۔ یہ لوگ جو کام کرتے ہیں اس میں پوری توجہ اور لگن ڈال دیتے ہیں ۔ خوشیاں پھیلانے والے ہمدرد لوگ۔ البتہ مغرور اور خود غرض بھی ہوتے ہیں ۔ اگر ان خامیوں پر توجہ دیں اور انھیں بدلنے کی کوشش کریں تو بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔
آصف زرداری میں یہ تمام خصوصیات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔


اپنے تاثرات بیان کریں !