بُرج سرطان کی مشہور شخصیات
سلطان راہی
محمد سلطان راہی پاکستان فلم انڈسٹری کے مقبول ترین اداکار۔ جنھوں نے پنجابی فلموں میں اپنا لوہا منوا کر اس زبان کو پوری دنیا میں متعارف کروایا۔ انکی اداکاری کی صلاحیتیں اتنی عمدہ تھی کہ 703 پنجابی فلموں میں کام کیا۔ اس زمانے میں اتنے مشہور ہونے کے باوجود بھی انھوں نے محنت نہ چھوڑی، انکو شاید محنت کرنے کی عادت تھی، تبھی دن میں تین تین فلموں کی شوٹنگ کیلئے جایا کرتے تھے۔ کسی بھی بریک کے بغیر اپنے کام میں لگے رہتے تھے۔ کم بجٹ والی فلمیں بھی کرتے تھے انھیں یقین ہوتا تھا کہ پروڈیوسر کے پیسے تو وصول کروا ہی لونگا۔ انکا کردار مولا جٹ آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔
یہ پاکستان کے پہلے اداکار ہیں جنکا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔ انکا اپنا ہی انداز تھا، جس میں مونچھیں اور بارود اگلتی ہوئی آنکھیں قابل غور ہوا کرتی تھیں۔ لیکن شاید انکے مخالفین کوانکی ترقی ہضم نہ ہو سکی، تبھی سفر کے دوران انکی گاڑی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جسکی وجہ سے سلطان راہی دم توڑ گئے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں یہ ڈکیتی کی واردات تھی۔ یہ قتل ا بھی تک قاتل کی شناخت سے محروم ہے۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
تاریخ پیدائش: 24 جون 1938ء۔ مقام: اتر پردیش، انڈیا
آئیے ذرا سلطان راہی کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
برج سرطان کے لوگوں کی بات کی جائے تو یہ کافی وفادار اور حساس ہوا کرتے ہیں۔ ان میں حب الوطنی اور ہمدردی کا جذبہ بھی پایا جا تا ہے۔ بڑے اچھے دل کے مالک ہوا کرتے ہیں۔ لیکن انکے سچے جذبات دوسروں کیلئے کئی بار پریشانی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ کیو نکہ یہ کافی شکی مزاج لوگ ہوتے ہیں۔ اپنے پیاروں کے معاملے میں کافی حساس ہو جا تے ہیں۔ انھیں اپنا رویہ بہتر کرنا چاہیئے، ورنہ مسئلے ہو سکتے ہیں۔
سلطان راہی میں یہ تمام اوصاف دیکھے جا سکتے ہیں۔

 
 
مشہورسرطان شخصیات کے متعلق دلچسپ حقائق
فلمسٹار ندیم
حضرت مجدد الف ثانی
راک فیلر (سب سے امیر تاجر)
دلائی لامہ
سائنسدان ٹیسلہ
مشہورسرطان شخصیات کے متعلق دلچسپ حقائق
حضرت مجدد الف ثانی
دلائی لامہ
فلمسٹار ندیم
سائنسدان ٹیسلہ
راک فیلر (سب سے امیر تاجر)


 
 
 
ہوم پیج دیگر منتخب آرٹیکلز

نور جہاں کا بُرج
اصل نام اللہ رکھی وسائی ہے۔ ملکہ ترنم کے لقب سے نوازی گئیں کیونکہ انکی آواز نے ہر شخص کے دل کو چھوا۔ گانے کا جو انداز میڈم نور جہاں کے پاس تھا وہ آج کے کسی بھی گلوکار کے پاس نہیں۔ قصور میں پیدا ہونے والی یہ عام سی لڑکی تھی لیکن 9 سال کی عمر میں ہی انھوں نے اپنی آواز کے جوہر دکھانے شروع کر دیے تھے کیونکہ ان کی فیملی میوزک سے وابستہ تھی۔ برصغیر کی ماضی کی ایک مشہور گلوکارہ نے اس نوجوان لڑکی کا ٹیلنٹ دیکھ کر اس کا نام بے بی نورجہاں رکھ دیا۔ انکی سلک کی ساڑیاں، آنکھوں کا گہرا میک اپ، بالوں کا منفردسٹائل نہایت ہر دلعزیز تھے۔ ان سا ہنر اور فیشن اُس زمانے میں کسی اورکے پاس نہیں تھا۔
مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو سے کسی نے نورجہاں کا تعارف یوں کروایا گیا کہ منٹو یہ نور ہے، نورجہاں ہے، سرور جہاں ہے۔ خدا کی قسم ایسی آواز پائی ہے کہ اگر جنت کی خوش الحان سے خوش الحان حور بھی اس کی آواز سن لے تو اِسے سیندور کھلانے زمین پر اتر آئے۔ میڈم صاحبہ نے اردو، پنجابی، سرائیکی اور ہندی میں 10000 سے زائد گانے ریکارڈ کروائے۔ جنوبی ایشیاء کی مشہور ترین شخصیات میں انکا شمار ہوتا ہے۔ انکی آواز نے سرحدوں کے پار جا کر لوگوں کے دل جیتے۔ وطن سے محبت میں اتنی سرشار تھی کہ انھوں نے سپاہیوں کے لیے بھی کئی نغمے گائے۔ پاکستان کی پہلی خاتون فلم ڈائریکٹر ہونے کا شرف بھی انھی کو حاصل ہوا۔ انھوں نے ایکٹنگ، ڈائریکشن اور گلوکاری ساتھ ساتھ جاری رکھی۔ نورجہاں نے دو شادیاں کیں مگر دونوں طلاق پر ختم ہوئیں۔
2000ء میں انکی صحت کافی خراب ہو گئی۔ کافی عرصہ بیڈ پر رہیں اور پھر 27 ویں رمضان المبارک کو ہارٹ اٹیک کی وجہ سے کراچی میں انکی وفات ہوئی۔ صدرِ پاکستان پرویز مشرف نےسرکاری اعزاز کے ساتھ میت لاہور لے جا کر تدفین کا اعلان کیا۔ لیکن نورجہاں کی فیملی کی خواہش کے مطابق 27 رمضان کی ہی رات کو کراچی میں ان کی تدفین کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں چار لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ ان کی بیٹی ظل ہما بھی سنگر تھیں، ان کا انتقال ہوچکا ہے۔ ظل ہما کے بیٹے احمد علی بٹ مشہور سنگر اور ایکٹر ہیں۔ اس کے علاوہ نورجہاں کا پوتا سکندررضوی اور پوتی سونیا جہاں ایکٹر ہیں۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
تاریخ پیدائش: 21ستمبر 1926 (عمر74 سال)۔ مقام: قصور
آئیے ذرا نور جہاں کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ پیدائش کے مطابق انکا برج سنبلہ ہے۔ برج سنبلہ کے لوگوں میں وفاداری کا لیول بہت اوپر ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنے کام کے ساتھ ساتھ لوگوں کے بھی وفادار ہوتے ہیں۔ رحمدل اور شفیق ہوتے ہیں۔ ہر کسی کی دلجوئی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ محنت کرنا تو انکی عادت ہوتی ہے ہر کام میں جان ڈال دیتے ہیں۔ لیکن ذرا ذرا سی بات پر پریشان ہونا اور مطمئن نہ ہونا انکے لیے مسائل کھڑے کر دیتا ہے۔ انھیں ان باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
نور جہاں میں یہ تمام اوصاف واضح ہیں۔

 

ایشوریارائے کا بُرج
بولی وڈ کی وہ اداکارہ جن کی اداؤں سے لیکر صرف مسکراہٹ نے پوری دنیا میں دھوم مچائی ہے وہ صرف ایشوریا ہی ہیں۔ بہت سے لوگ ایش کے نا م سے بھی پکارتے ہیں۔ دنیا کی خوبصورت ترین خاتون جو کہ بولی وڈ کی جان رہی ہیں ، پڑھنا ذوالوجی چاہتی تھی کیونکہ میڈیسن کا شوق تھا۔ لیکن موڈلنگ میں کیریئر بنا نے کیلئے سب کچھ چھوڑ دیا۔ ویسے تو یہ پیدائشی خوبصورت ہیں لیکن اپنی خوبصورتی کو بر قرار رکھنے کیلئے یہ کھانا بہت کم کھاتی ہیں۔ جب بھی بھوک لگے پھل کھا لیتی ہیں۔ مطلب اگر آپ بھی انکے جیسے بننا چاہتے ہیں تو پھل کھانا شروع کر دیں،ہو سکتا ہے معجزہ ہو ہی جائے۔
انکے عاشق دینا بھر میں ہیں ،لیکن ابھیشک بچن وہ خوش نصیب آدمی ہیں جنھیں انکا ساتھ نصیب ہوا۔ شادی سے پہلے سلمان خان کیساتھ تعلق میں رہیں اور وہ ان پر جان تک نچھاور کرنے کو تیار تھے، لیکن ان دونوں کی راہیں مل نہ پائیں۔ اب ایک بچی کی ماں ہیں لیکن بڑی خوفناک ماں ہیں۔ اپنی بچی کے معاملے میں بڑی پروٹیکٹو ہیں ۔لڑ پڑتی ہیں ، اگر کوئی ہاتھ بھی لگا دے۔ اتنی بڑی سٹار ہونے کے باوجود محترمہ اپنے شوہر کیلئے خود کھانا پکانا پسند کرتی ہیں۔ نوکروں سے کبھی نہیں بنواتیں۔ کتابیں پڑھنا انھیں بہت پسند ہے اور خود پر لکھا ہر آرٹیکل پڑھتی ہیں۔
تاریخ پیدائش اور بُرج
آئیے ذرا ایشوریا رائے کی تاریخ پیدائش پر غور کرتے ہیں اور ان کی شخصیت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاریخ پیدائش: 1 نومبر 1973 (عمر 44 سال)۔ مقام: منگلور، انڈیا
تاریخ پیدائش کے مطابق انکا برج عقرب ہے۔ برج عقرب کے لوگ سچے دوست ہوتے ہیں۔ یہ لوگ دوستی میں ہر حد پار کر جاتے ہیں، چاہے کتنی ہی مشکل سہنی پڑے۔ یعنی بہت جوشیلے ہوتے ہیں لیکن غصے کے تیز ہونے کی وجہ سے یہ لوگ مار دھاڑ میں بھی ملوث ہوجاتے ہیں، جو کہ انکے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ انھیں غصے اور حسد پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
ایشوریا رائے میں یہ تمام خصوصیات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔


اپنے تاثرات بیان کریں !